میرا نام؟

Nov 17, 2013

زنیرہ ثاقب

میرا نام ربیع مسیح ہے میری عمر آٹھ سال ہے…میں دوسری کلاس میں پڑھتی ہوں… تھی… میرا ہاتھ میں ایک سوراخ ہے شاید اس سے کچھ گزر گیا ہے.. کوئی بال بیرنگ یا کوئی چھرا … لکن ابھی اس میں جان ہے اس لئے درد کا احساس ہے … میں نے دیکھا ہے کے وہ آہستہ آھستہ ڈھلکتا ہے…. اب تو وہ ہاتھ نہیں.. وہ تو بس ایک گوشت کا لو ٹھرا ہے.. میرے آنکھیں یہ سب دیکھتی ہیں… میں دیکھتی ہوں.. کے سب گوشت کے لوتھرے ہیں.. اماں نے بتایا تھا کے ہم سب کا خون سرخ ہے اندر سے ہم سب ایک ہیں . ماں سچ کہتی تھی .. لکن یہ نہیں بتایا تھا کے جب خون اور گوشت مل جاتا ہے تو باہر سے بھی سب اک جیسےلگنے لگتے ہیں…..

میرا نام کرن جان ہے … میرا جسم آھستہ آھستہ ٹھنڈا ہوتا ہے.. میرے کوکھ میں جو جان ہے وہ باہر انے کو تڑپتی ہے.. شاید اس کو سمجھ نہیں آتی کے یک دم اس کی پناہ گاہ چھلنی کیسے ہو گئی ؟ اتنی گرمی کیوں بڑھ گئ ہے اور وہ محفوظ جگہ آگ کی طرح جلتی کیوں ہے؟.. میرے ہاتھ میں کتاب ہے… شاید وہ بائبل ہے… اس میں لکھا ہے سب انسان برابر ہیں..
میرا نام ؟ میرا نام تو ابھی کسی نے رکھا نہیں کیوں کے میں ابھی پیدا نہیں ہوا .. اگر میری پناہ گاہ میں اتنے سوراخ نہ ہو جاتے تو شاید میں آسانی سے سانس لیتا اور ٤ دن بعد میں اس دنیا میں آنکھ کھولتا. سوچتا ہوں کے ایسا تو میرے بنانے والے نے میرے لئے نہیں چاہا ہو گا؟ بغیر پیدا ہوے میں آگ میں جلتا ہوں… میرے ماں مجھے بچانے کی کوسش کرتی ہے لکن وہ تو خود … خود آھستہ آھست ختم ہوتےکو ہے.. اور اس کے ساتھ میں بھی آنکھیں موندتا ہوں… باہر سے آہو بکا سنائی دیتی ہے… میں خوش ہوں کے میں اسکو نہیں دیکھتا…

میرا نام آدرش لال ہے… آج ہولی نہیں ہے لکن ہر طرف لال رنگ پھیلتا ہے … اس میں میرا بھی لال رنگ ہے… وہ جو میرے جسم میں پیوست چا کو سے نکلتا ہے … مجھے لال رنگ سے اپنی بیٹی پریہ یاد آتی ہے… وہ جس کی شادی پچھلے مہینے اغوا کے بعد زبردستی انھوں نے کردی.. وہ کہتے تھے ایسے ہی تم لوگوں کی فلاح ہے… اس کا لال رنگ کا لہنگا… اورچا کو سے لگا میرا لال ہولی کا رنگ. دونو ایک جیسے لگتے ہیں

میرا نام ضیاء خان ہے.. میں ایک مسلمان ہوں… فرقہ یاد نہیں.. ابّو نے کہا تھا کے ہم بس مسلمان ہیں کسی فرقے سے نہیں..انھوں نے مسجد میں مارنے سے پہلے پوچھا نہیں کے کون کون یہاں مسلمان ہے؟ کس فرقے سے ہے؟
وہ جُممے کی نماز کے وقت اندر آیا اسکی آنکھیں خالی تھی .. بلکل خالی جیسے اس کی روح نہ ہو بس ایسے جیسے چلتی پھرتی لاش ہو .. وہ بس ایک مشین جیسا تھا… میں نے اس کا ہاتھ دیکھا وہ ایک دھاگے کو کھینچتا تھا… اور پھر سب کچھ رک گیا.. بہت ایھستا آھستہ… اس کا جسم سینکڑوں ٹکڑوں میں بٹ گیا.. ہر طرف لال رنگ کے چھینٹے اڑتے تھے لکن اس کو آنکھیں .. ان میں کوئی رنگ نہ اترا…. وہ تو خالی ہی رہیں … ایسے جیسے اس کو کچھ معلوم ہی نہ ہو… ١٧ یا ١٨ برس کے بچے کو ویسے بھی کیا معلوم ہوتا ہے…

اور اب میں…. میں تو .. میرا نام.. میرا نام شاید شرمندگی ہے… میرے گردن شرم سے جھکی ہے … میرے آنکھیں زمین میں گڑی ہیں. … نہیں میں وہ نہیں جس نے ان سب کو مارا…. میں تو وہ ہوں… جو اپنے گھر میں بیٹھ کر ان سب کی کہانی سنتا ہے. ..سناتا ہے .. دکھی ہوتا ہے …کچھ دن رات ٹھیک سے نیند نہیں آتی….. اور بس…. پھر میں آگے چلتا ہوں… کیوں کے مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا؟….. نہیں….. کیوں کے میں جانتا ہوں کے کل میرے باری ہے… کیوں کے آج میں خاموش ہوں… میرا نام … میرا نام قاتل ہے اور میں آئینے میں رہتا ہوں

Copy Right @ Zunaira Saqib 2013  

Advertisements