جلنے سے پہلے

جلنے سے پہلے 

زنیرہ ثاقب 

وہ جب باہر شور مچاتے تھے اور الله اکبر کے نعرے لگاتے تھے

تب وہ میرا ہاتھ پکڑتا تھا اور تسلی سی ایک دیتا تھا

لکین اس کی آنکھ میں بھی خوف کی پرچھائی تھی

موت کی آہٹ دکھتی تھی

وہ میرے کوکھ میں جو ایک جان پلتی تھی

میں اس  کا بھی سوچتی تھی

وہ زور سے دروازہ پیٹتے تھے

اور ہم ڈر کر اور دبکتے تھے

پھر ایک ایمان والے نے چھت سے چھلانگ لگائی تھی

اور جھٹ دروازہ کھولا تھا

بہت سارے کچھ لوگ تھے

ان کے چہرے ایمان سےسرخ پڑتے تھے

ان کے ہاتھ میں ڈنڈے تھے

جس سے وہ ہم کافروں کو مارتے تھے

پھر جب میرا جسم ٹوٹ گیا .. درد کا احساس روٹھ گیا .

….مرے نیم مردہ جسم کو

…میرے ساتھی کے زخموں سے چور شریر کو

 وہ آگ کی بھٹی میں ڈالتے تھے

جب کسی کے جنّت کے چکر میں ہم آگ  میں جلتے جاتے  تھے

اور میری  کوکھ سلگتی تھی

.. وہ بہت سارے ناراض لوگ زورزور  سے نعرے لگاتے تھے

. وہ خوش  تھے کے کچھ کافر اب جہنم کی آگ میں جلتے ہیں

  جب وہ جوش و جذبے سے  جنّت کی آس  میں مر مر جاتے تھے

 تب میرے کوکھ میں جلتی ہوئی جان مجھ سے پوچھتی تھی

اماں ! بس یہی وہ آگ ہے جس کا چرچ میں سنڈے کو بتاتے تھے ؟

اور میں…. میں سوچتی ہوں اس والی آگ میں جلنے سے پہلے صفائی پیش کرنے کی اجازت تو ہوتی تھی

Advertisements

ایک قدم آگے اور دو پیچھے رکھنے والی قوم

    ا ایک قدم آگے                   

دنیا کے سب سے اونچے میدانوں پر پولو کھیلنے والی قوم

پہاڑوں کا سینہ چیر پر کراکُرم ہائی وے بنانے والی قوم

ارفع، ملالہ اور اعتزاز جیسے بچوں کو جنم دینے والی قوم

کینسر ہسپتال بنانے کے لئے اپنا زیور دینے والی قوم

عبدل ستار ایدھی والی قوم

دنیا کی چوتھی بڑی انٹرنیٹ استعمال کرنے والی قوم

دنیا کی سب سے بڑی دیپ سی پورٹ رکھنے والی قوم

دنیا کے ٥٠% فٹ بال بنانے والی قوم

ڈاکٹر عبدل سلام والی قوم

نصرت فتح علی خان  والی قوم

اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ والی قوم

دنیا کی دوسرے بڑی سالٹ مائن کھودنے والی قوم

اتنی جانیں کھو کر بھی ہمّت دکھانے والی قوم
 دوقدم پیچھے

٢ روپیہ کا پٹرول بچانے کے لئے غلط موڑ کاٹنے والی قوم

آفس میں دوستوں کو چائے پلاتی ملک کے سسٹم کو کوسنے والی قوم

کبھی ایران کبھی سعودیہ کے پیچھے اپنی مسلمان شناخت  ڈھونڈنے والی قوم

شہید کی تعریف پر سخت مغالطے میں رہنے والی قوم

ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والی قوم

ایک دن میں آسمان پر چڑھانے اور اگلے دن زمین میں دبانے والی قوم

اپنے بچوں کو پوچھنا نہیں لکن شام کے دکھ میں گھلنے والی قوم

١ مئی کو چھٹی کر کے ماسی سے کام کروانے والی قوم

عید پر بکرا الله کے نام پر کاٹنے اور پھر سارا خود ہی پھڑکانے والی قوم

مغرب کی تقلید میں کپڑے پہننے اور بال بنانے لکن ایمان داری نہ اپنانے والی قوم

بچوں کو حب ال وطنی کے لیکچر دیتے ہوے گاڑی سے کوڑا باہر پھینکنے والی قوم

صبح شام انڈیا سے نفرت اور رات کو فیملی آوٹنگ میں انڈین فلم دیکھنے  والی قوم

ہر چیز میں یہودی سازش اور ڈرامہ ڈھونڈنے والی قوم

باہر چائلڈ لیبر پر اجلاس اور گھر میں ١٢ سال کی بچی سے کام کروانے  والی قوم

بے ایمانی، جھوٹ، دھوکا دہی میں سب سے آگے اور اسلام کی چمپین بننے والی قوم

ایک قدم آگے اور دو پیچھے رکھنے والی قوم 

Copyright @ ZunairaSaqib 2014 

!کمزور عقیدہ کمزور مذہب کم ظرف انسان

 

Nov 18th, 2013

زنیرہ ثاقب

پاکستان میں کل ملا کر ١٨٠ ملین لوگ رہتے ہیں اور ماشاللہ اتنے ہی فلاسفر اور حالات حاضرہ کے ماہر اور اتنے ہی مفتی. جس کا جب دل کرتا ہے دوسرے کو کافر قرار دے دیتا ہے. جس کا دل چاہتا ہے دوسرے کو واجب القتل که کرجنّت کا حقدار بن جاتا ہے . .چھوٹا سا مسلہ ہو جائے.. ہلکی سے بحث ہو جائے تو لوگوں کا مذہب اور ایمان یکدم خطرے میں پڑ جاتا ہے ہر بات سے یہودی سازش کی بو آنے لگتی ہے . بیچاروں کو لگتا ہو کے ساری دنیا . کے پاس اور کوئی کام نہیں سواے ان کو تباہ برباد کرنے کے.. جو لوگ اپنی باتوں میں اپنے عمل میں اپنے روز 

مرہ رویے میں دیانت داری سے کام نہ کر سکتے ہوں اس ان کو کسی سازش کی کیا ضرورت ہے ؟

جن میں برداشت کا مادہ نہ ہونے کے برابر ہو ..جن کے عقیدے اتنے کمزور ہوں کے چھوٹی سی بات سی خطرے میں پڑ جائیں ان کو کسی سازش کی کیا ضرورت ہے؟

کسی کو کسی کے کپڑوں پر اعتراض ہے . کے فلاں نے آپ کو پورا نہیں ڈھکا… فلاں نے سرف آدھا ڈھکا …کسی نے بے شرمی کی حد کر دی… کوئی ہے جو لوگوں کی داڑھی کے سائز پر اعتراض کر کے بیٹھا ہے .
کوئی کہتا ہے ہ سکارف تو لیا ہے لکن اسلامک طریقے سے نہیں لیا.. کوئی کہتا ہے ہا ں عبایا تو پہنا ہے لکین فیشن والا پہنا ہے ..

کوئی اس فکر میں ہے کے جینز پہننے سے ہماری بچیاں مغرب زدہ ہو رہی ہیں. کسی کو پریشانی ہے کے بچے نے آج ہندی کے دو لفظ بول دے ہیں.

کوئی تو رات کو سو نہیں پتا کے آج میرا بچہ قادیانی کے بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا..

کسی کا مذہب عورت کو دیکھ کر خطرے میں پڑ جاتا ہے.. کسی کا مغربی تعلیم دیکھ کر..

کوئی مسجد کے منبر پر بیٹھا یہودیوں اور عیسیٰیا یوں ے نفرت کا سبق پڑھاتا ہے … کوئی انگلش بول کر یونیورسٹی میں داڑھی اور برقعے والوں سے ڈراتا ہے

ایسا گھسمان کا رن پڑا ہے کے پتا ہی نہیں کون مرا اور کون جہنم واصل ھوا. اب خیر یہ ہے کے یہ کاپی رائٹ بھی انساؤں کے پاس ہیں کے کون شہید ہوا اور کون نہیں

یہ جان لیجیے کے اگر آپ کا مذہب ، آپ کا عقیدہ ، آپ کا یقین ، آپ کو کسی اور مذہب یا عقیدے سے نفرت سکھاتا ہے..قتل غارت سکھاتا ہے . تو آپ کا مذہب اور عقیدہ غلط ہیں … نہیں شاید آپ کی تشریح غلط ہے. یہ آپ کی کم ظرفی ہے کے آپ کو صرف تصویر کا ایک رخ نظر آتا ہے.. یہ آپ کی کم ظرفی ہے جو آپ کو نفرت سکھاتی ہے . اور یہ آپ کی کم ظرفی ہے جو آپ کو یہ بتاتی ہے کے پاکستان میں کسی ا ور کو جینے کا حق نہیں سواے آپ کے اور آپ کے باقی عقیدے والوں کے . یہ آپ کی کم ظرفی ہے جو آپ کو مجبور کرتی ہے نفرت پھیلانے پر ..

سنو کم ظرف انسان یہ جان لو کے میرا اس پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا … تمہارا مذہب کم ظرفی ہےاور میرا انسانیت اور نہ تو یہ کمزور ہے اور نہ خطرے میں

Copy Right @ Zunaira Saqib

میرا نام؟

Nov 17, 2013

زنیرہ ثاقب

میرا نام ربیع مسیح ہے میری عمر آٹھ سال ہے…میں دوسری کلاس میں پڑھتی ہوں… تھی… میرا ہاتھ میں ایک سوراخ ہے شاید اس سے کچھ گزر گیا ہے.. کوئی بال بیرنگ یا کوئی چھرا … لکن ابھی اس میں جان ہے اس لئے درد کا احساس ہے … میں نے دیکھا ہے کے وہ آہستہ آھستہ ڈھلکتا ہے…. اب تو وہ ہاتھ نہیں.. وہ تو بس ایک گوشت کا لو ٹھرا ہے.. میرے آنکھیں یہ سب دیکھتی ہیں… میں دیکھتی ہوں.. کے سب گوشت کے لوتھرے ہیں.. اماں نے بتایا تھا کے ہم سب کا خون سرخ ہے اندر سے ہم سب ایک ہیں . ماں سچ کہتی تھی .. لکن یہ نہیں بتایا تھا کے جب خون اور گوشت مل جاتا ہے تو باہر سے بھی سب اک جیسےلگنے لگتے ہیں…..

میرا نام کرن جان ہے … میرا جسم آھستہ آھستہ ٹھنڈا ہوتا ہے.. میرے کوکھ میں جو جان ہے وہ باہر انے کو تڑپتی ہے.. شاید اس کو سمجھ نہیں آتی کے یک دم اس کی پناہ گاہ چھلنی کیسے ہو گئی ؟ اتنی گرمی کیوں بڑھ گئ ہے اور وہ محفوظ جگہ آگ کی طرح جلتی کیوں ہے؟.. میرے ہاتھ میں کتاب ہے… شاید وہ بائبل ہے… اس میں لکھا ہے سب انسان برابر ہیں..
میرا نام ؟ میرا نام تو ابھی کسی نے رکھا نہیں کیوں کے میں ابھی پیدا نہیں ہوا .. اگر میری پناہ گاہ میں اتنے سوراخ نہ ہو جاتے تو شاید میں آسانی سے سانس لیتا اور ٤ دن بعد میں اس دنیا میں آنکھ کھولتا. سوچتا ہوں کے ایسا تو میرے بنانے والے نے میرے لئے نہیں چاہا ہو گا؟ بغیر پیدا ہوے میں آگ میں جلتا ہوں… میرے ماں مجھے بچانے کی کوسش کرتی ہے لکن وہ تو خود … خود آھستہ آھست ختم ہوتےکو ہے.. اور اس کے ساتھ میں بھی آنکھیں موندتا ہوں… باہر سے آہو بکا سنائی دیتی ہے… میں خوش ہوں کے میں اسکو نہیں دیکھتا…

میرا نام آدرش لال ہے… آج ہولی نہیں ہے لکن ہر طرف لال رنگ پھیلتا ہے … اس میں میرا بھی لال رنگ ہے… وہ جو میرے جسم میں پیوست چا کو سے نکلتا ہے … مجھے لال رنگ سے اپنی بیٹی پریہ یاد آتی ہے… وہ جس کی شادی پچھلے مہینے اغوا کے بعد زبردستی انھوں نے کردی.. وہ کہتے تھے ایسے ہی تم لوگوں کی فلاح ہے… اس کا لال رنگ کا لہنگا… اورچا کو سے لگا میرا لال ہولی کا رنگ. دونو ایک جیسے لگتے ہیں

میرا نام ضیاء خان ہے.. میں ایک مسلمان ہوں… فرقہ یاد نہیں.. ابّو نے کہا تھا کے ہم بس مسلمان ہیں کسی فرقے سے نہیں..انھوں نے مسجد میں مارنے سے پہلے پوچھا نہیں کے کون کون یہاں مسلمان ہے؟ کس فرقے سے ہے؟
وہ جُممے کی نماز کے وقت اندر آیا اسکی آنکھیں خالی تھی .. بلکل خالی جیسے اس کی روح نہ ہو بس ایسے جیسے چلتی پھرتی لاش ہو .. وہ بس ایک مشین جیسا تھا… میں نے اس کا ہاتھ دیکھا وہ ایک دھاگے کو کھینچتا تھا… اور پھر سب کچھ رک گیا.. بہت ایھستا آھستہ… اس کا جسم سینکڑوں ٹکڑوں میں بٹ گیا.. ہر طرف لال رنگ کے چھینٹے اڑتے تھے لکن اس کو آنکھیں .. ان میں کوئی رنگ نہ اترا…. وہ تو خالی ہی رہیں … ایسے جیسے اس کو کچھ معلوم ہی نہ ہو… ١٧ یا ١٨ برس کے بچے کو ویسے بھی کیا معلوم ہوتا ہے…

اور اب میں…. میں تو .. میرا نام.. میرا نام شاید شرمندگی ہے… میرے گردن شرم سے جھکی ہے … میرے آنکھیں زمین میں گڑی ہیں. … نہیں میں وہ نہیں جس نے ان سب کو مارا…. میں تو وہ ہوں… جو اپنے گھر میں بیٹھ کر ان سب کی کہانی سنتا ہے. ..سناتا ہے .. دکھی ہوتا ہے …کچھ دن رات ٹھیک سے نیند نہیں آتی….. اور بس…. پھر میں آگے چلتا ہوں… کیوں کے مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا؟….. نہیں….. کیوں کے میں جانتا ہوں کے کل میرے باری ہے… کیوں کے آج میں خاموش ہوں… میرا نام … میرا نام قاتل ہے اور میں آئینے میں رہتا ہوں

Copy Right @ Zunaira Saqib 2013