!شکر ہے اعتزازتم مر گۓ

!شکر ہے اعتزازتم مر گۓ

زنیرہ ثاقب

پیارے اعتزاز

تمہاری شہادت کی خبر سنی تو دل کو یگ گونہ اطمینان حاصل ہوا یوں لگا کے میرا ایمان تازہ ہو گیا . گر چے کے تمہاری جان چلی گئے.. تمہاری ماں کا جوان بیٹا چلا گیا …دوستوں کا ساتھی بچھڑ گیا لکن یقین مانو کے یہ تمہارے حق میں اچھا ہوا کے تم اب اس دنیا میں نہیں رہے.

خدا نہ خواستہ اعتزاز تم بچ جاتے تو مصیبت ہو جاتی. ویسے تو بہت سے لوگوں کی روزی پر تم نے لات مار دی ہے. اب ان کو سمجھ میں نہیں ہے گا کس طریقے سے وہ تمہارا تعلق یہودی قوتوں سے ثابت کریں. کیسے تمہیں غیر ملکی ایجنٹ کہیں اور کیسے کہیں کے یہ سب پاکستان کے خلاف سازش ہے. شکر ہے کے اعتزاز تم مر گئے…

اگر اعتزاز تم بچ جاتے اور طالبان کے خلاف کچھ کہ دیتے تو ایک طوفان کھڑا ہو جاتا. . کیا تمہیں پتا نہیں ہے کے طالبان نام کی کوئی چیز پاکستان میں ہے ہی نہیں.. آج تک تم نے طالبان کو دیکھا ہے؟؟ فون پر ذمداری تو کوئی بھی لے سکتا ہے. ویسے تو یہ اور بات ہے کے ہم نے کبھی الله کو نہیں دیکھا.. رسول کے آواز نہیں سنی لکن اس پر تقین ہے کیوں کے وہ تو ایمان کا حصّہ ہے. ہاں جب تک طالبان دست با دست حاضر ہو کر یہ نہ کہیں کے جناب والا ہم ہی وہ خونی درندے ہیں جو کے سکولز کو فخر سے تباہ کرتے ہیں…. معصوم لوگوں کے چھیتڑے اڑاتے ہیں.. ہم تو نہ مانیں گے کے کو طالبان ہیں…. ویسے بھی آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا ہی سچ ہوتا ہے…

اگر تم بچ جاتے تو ایک گروہ وہ بھی ہے جو کے سانسی طریقوں سے ثابت کرتا کے خود کش حملے میں بچ جانا تو ممکن ہی نہی اس کے جواز میں وہ خود کش جیکٹ کے بنانے کے طریقے سے لے کر اس میں مو جود لوازمات سے ثابت کرتا کے یہ بچہ جو بچ گیا ہے یہ حقیقت میں اسلام پاکستان اور طالبان کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور کچھ نہیں. … تو اعتزاز شکر کرو کے تم مر گئے … ورنہ تمہارے خاندان والے ساری عمر لوگوں کے آگے صفایاں پیش کرتے اور تم اپنی باقی عمر طالبان کے حملے اور قوم کی لعن تان سے بچنے کے لئے کسی اور ملک میں گزار رہے ہوتے. اور گر چے کے یہ لکھتے ہوے میرے ہاتھ کامپتے ہیں اور دل روتا ہے لکن یہ سچ ہے کے میں خوش اور شکر گزر ہوں کے تم مر گئے اور قوم کو ایک ہیرو مل گیا. الله تمہیں جنّت میں جگہ دے امین