عمران خان کے برگر ووٹرز

May 15th, 2013

زنیرہ ثاقب

الیکشن کو گزرے پورے ٣ دن ہو گئے لکن دل کا بجھنا  ختم ہی نہیں ہوتا.  دل کو تسلی دے کر  پھر کام شروع  کرتی  ہوں پھر کسی  کالم کویڑنے    پر پھر وہی کیفیت! دکھ ہارنے کا نہیں … ہار جیت تو  زندگی کا   حصہ  ہے…دکھ تو اس رویے کا ہے جو الیکشن کے بعد سے چلا  آ رہا ہے اور اس کو دیکھ کر احساس ہوتے ہے کے تبدیلی آنا تو دور کی بات  ہم اس کے آس پاس  بھی نہیں ہیں.

عمران خان کے ووٹر کون لوگ تھے اس بارے میں لوگوں  کی مختلف آرا  ہیں لکین  شاید سب سے زیادہ  اہمیت ان آ را کی ہے جو کے پڑھے لکھے لوگوں  کی طرف سے،  اخبار میں لکھنے والوں کے طرف سے آتی ہیں. کیون کے   ان کو پڑھنے   والے اور سچا سمجھنے والے بہت لوگ ہیں. اور اس کو پڑھ کر  احساس ہو تا ہے   کے بہتری   کی تو قع  رکھنا ہی   فضول ہے. اس میں پڑھے لکھے اور انپڑھ   ہونے کا تو سوال ہی نہیں یہ تو ذہنی پسماندگی  ہے جس کا علاج تعلیم بھی نہیں کر سکتی.   بڑے آرام  سے عمران خان کے ووٹر کو ممی  ڈیڈی  طبقہ، مراعات یافتہ طبقہ، اور برگر فیملیز قرار دیا جاتا ہے اور پھردھاندلی سےبہت سی جگہ  ہرانے  پر شور مچانے کو یہ کہ کر چپ کروایا جاتا ہے کے “تھوڑی  بہت دھاندلی تو ہر جگہ   چلتی  ہے.  .. .یہ احتجاج  کرنے والے  کیا جانیں  کے نچلے طبقے نے کیوں کسی اور کو چنا  ہے…یہ تو ڈرائنگ روم کی ٹھنڈی ہوا والے لوگ ہیں  ان کی سوچ بس ڈرائنگ روم سے شروع ہو کر وہیں   ختم ہو جاتی ہے ان کو کیا پروانچلے طبقے کی اور اس بات کی  کے ملک میں کیا ہوتا ہے. “

ہاں  میں بھی عمران خان کی ووٹر ہوں.. میں برگر فیملی سے  ہوں؟ اچھا سوال ہے… شاید اس سے پہلے مجھے پوچھنا چاہیے  کے برگر فیملی کیا ہوتی  ہے. کیا ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی میں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنے  کو ضروری سمجھا؟ ہم  نےاور  بہت سے اورلوگوں نے اور  ان کے ماں باپ نے حللال طریقے سے  پیسے کما  کر اپنی زندگی تھوڑی بہتر  بنا لی؟ ہان ہم وہی ہیں … لکن کیا  یہ ضروری ہے کے ہم اس پر شرمندہ رہیں؟  کیوں کے اس  ملک  کے آدھے سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے  نیچے ہیں.کیا ہمیں واقعی شرمندہ  ہونا چاہیے  کیوں  کے ہم نے عمران خان کو ووٹ دیا اور ہم نچلے طبقے کے مسائل  کو  سمجھتے نہیں؟ کیا ہمیں شرمندہ ہونا چاہیے کیوں کے ہمیں  زندہ رہنے کےلئے  ہر مہینے حکومت کی طرف سے ایک وظیفے کی ضرورت نہیں؟.مجھے کہنے دیں  کے ہم وہ لوگ ہیں جن کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے اقتدار میں نواز شریف صاحب  ہوں یا بینظر  کی جماعت… کیوں کی  ہم بھیک پر نہیں اپنے بل بوتے پر زندگی جیتے ہیں اور ہم نے اس کے لیے محنت کی ہے ہمارے ماں باپ نے محنت کی ہے ….  تو پھر ہمیں کیا فرق پڑ  .سکتا ہے.. کیوں کے ہمارے پاس تو کھانےکو  ہے.اور حکومت بدلنے سے ہمیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا .  تو ہم پھر ووٹ دینے باہر کیوں آے؟  …تو مجھے بتانے دیجے کے   ہم ملک کے حالات پر کڑھنے  والے لوگ ہیں.. ہم لونگ ٹرم سوچنے والے لوگ ہیں… اگرچے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کے کون اقتدار میں ہے لکن ہم ووٹ  دینے اس لئے باہر آے  کیوں کے اس ملک کے باقی ٨٠ فیصد  لوگوں  کو فرق پڑتا ہے اور وہ… …… وہ بعد قسمتی سے اپنا اچھا برا نہیں سجھتے. وہ اس بچے کی طرح ہیں جس کو آوارہ گردی کرنا اسکول جانے سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور جو آوارہ گردی میں ساتھ دے وہ زیاد ہ اچھا لگتا ہے نہ کے ماں باپ جو اسکول نہ جانے پر ڈانٹتے ہیں ..  جی ہاں یہ سچ ہے  کے وہ اپنا اچھا برا نہیں سمجھتے…. مستقبل کا نہیں سوچتے .   جی ہاں مجھے یہ کہنے دیجیے کے ہم یہ سمجھتے ہیں کے بجلی گھر بنانا زیادہ  ضروری ہے نہ کوئی سولر لیمپ بانٹنا…  ہم یہ سمجھتے ہیں کے  تعلیم عام  کرنا زیادہ  ضروری ہے نہ کے دانش اسکول بنانا اور لیپ ٹاپ بانٹنا…. جی ہاں ہم یہ سمجھتے  ہیں کے لاہور پنجاب کا ایک حصّہ ہے پنجاب نہیں کے ٨٠ فیصد بجٹ اس کے بسوں پر لگا دیا جائے. .. جی ہاں ہم یہ سمجغتے ہیں کے میٹرو بس، لیپ ٹاپ، انکم سپورٹ اور سولر لیمپ سے ملکوں کی تقدیر نہیں بدلتی.  ملکوں کی تقدیر لوگوں کو بھکاری بنانے  سے نہیں بدلتی .   ہمیں ان سب  ا سکیموں  سے  فرق نہیں پڑتا کیوں کے ہم بس پرسفر  نہیں کرتے.. نہ ہم لیپ ٹاپ  مانگتے ہیں.نہ ہمیں انکم سپورٹ  چاہیے .. لکن ہم پھر بھی باہرآے  ہیں ووٹ دینے… تاکے ملک کے باقی ٨٠% لوگوں  کی تقدیر بدل سکے…. مجھے کہنے دیجیے کے  میرا اور مجھ جیسے بہت سے لوگوں کا   ووٹ ٢٠٠٠ روپے  یا ٢٠٠٠٠٠ روپے کا نہیں بکتا  .. میرا ووٹ  بریانی کی ایک پلیٹ اور ٥٠٠ روپے  کا محتاج نہیں ہے.. میرا ووٹ کسی کے  گن پواینٹ پر نہیں ڈلتا  . میرا ووٹ ملک کے لیے  ہے.اور میرا ووٹ  ان پسے  ہوے ٨٠% لوگوں  کے لئے ہے جو  کے پس  رہے ہیں اور جو پستے جائیں گے کیوں کے ان کی امیدیں غلط لوگوں  سے وابستہ ہیں…. تو آپ مجھے برگر فیملی والا کہیں یا ممممی ڈیڈی  یا مراعات یافتہ طبقہ کہیں. میں آج ووٹ دینے کے لئے اور احتجاج کرنے لیے باہر  ہوں اور صرف   اس شخص  کی وجہ سے ہوں جو ملک کے لئے سوچتا ہے اتفاق فاؤنڈری  یا سرے محل  کے لئے نہیں… جو لوگوں کا لیڈر ہے اور لوگوں میں رہتا ہے بنکرز کے پیچھے نہیں …آپ اپنے الفاظ کے چناؤ  میں احتیاط  کریں… کیوں کے تبدیلی  آے گی  .. اور جب یہ آے  گی تو اسی طبقے کی طرف سے آے  گی …. جس طرح   قیام پاکستان اسی طبقے کی طرف سے آیا تھا شاید آپ بھول گئے.اپنی تاریخ دوبارہ پڑھے … میں عمران خان کی ووٹر ہوں.. میرا ووٹ تبدیلی کے لئے ہیں.. چار دن کی روٹی کے لئے نہیں.آپ مجھے مرا عا ت یافتہ  طبقہ کہیں یا کچھ اور … میں پاکستان کا وہ چھوٹا سا  حصّہ ہوں جو پڑھا لکھا ہے مستقبل کے لیا سوچتا ہے .. اس ملک کے حالات پر کڑھتا ہے .. اور سمجھتا ہے کے تبدیلی ہمارے باہر نکلنے سے ہی آے گی. اگر آپ اس بات کی قدر نہیں کر سکتے تو اس کا مذاق بھی نہ ااڑائیں  کیوں کے پھر آپ شرمندہ ہوں گے جب یہ لوگ ایک بہتر پاکستان بنایں  گے تو اس میں آپ کا کچھ حصہ نہ  ہو گا .. میرا نام زنیرہ ثاقب ہے اور مجھے ا س طبقے کا حصّہ ہونے  پر فخر ہے 

Copy right @ Zunaira Saqib

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s